(۱۱۰۴۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَہُوَ بِمَکَّۃَ : إِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ حَرَّمَ بَیْعَ الْخَمْرِ وَالْمَیْتَۃِ وَالْخِنْزِیرِ وَالأَصْنَامِ ۔ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ شُحُومَ الْمَیْتَۃِ فَإِنَّہَا تُطْلَی بِہَا السُّفُنُ وَیُدْہَنُ بِہَا الْجُلُودُ وَیَسْتَصْبِحُ بِہَا النَّاسُ فَقَالَ : لاَ ہُوَ حَرَامٌ ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : قَاتَلَ اللَّہُ الْیَہُودَ إِنَّ اللَّہَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَیْہِمْ شُحُومَہَا جَمَلُوہَا ثُمَّ بَاعُوہُ وَأَکَلُوا ثَمَنَہُ ۔
لَفْظُ ُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری و مسلم ۱۵۸۱]
(١١٠٤٧) (الف ) یحییٰ بن بکر لیث سے روایت کرتے ہیں :
(ب) حضرت جابر (رض) بن عبداللہ روایت کہ میں نے فتح مکہ والے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے شراب ، مردار ، خنزیر اور بتوں کی خریدو فروخت حرام کردی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : مردار کی چمڑی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اس سے تو کشتیوں کو لیپ کیا جاتا ہے اور چمڑے رنگے جاتے ہیں اور لوگ اسے چراغ میں استعمال کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : وہ بھی حرام ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے، جب اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انھوں نے اسے پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھاگئے۔