hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11062

.

سنن البيهقي

11062
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۰۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْہَالِ یَقُولُ سَمِعْتُ إِیَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِیِّ وَرَأَی رَجُلاً یَبِیعُ الْمَائَ فَقَالَ : لاَ تَبِیعُوا الْمَائَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ بَیْعِ الْمَائِ ۔ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی سُنَنِ حَرْمَلَۃَ عَنْہُ ہَذَا الْخَبَرَ عَنْ سُفْیَانَ ثُمَّ قَالَ مَعْنَی ہَذَا الْحَدِیثِ أَنْ یُبَاعَ الْمَائُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِی خَلَقَہُ اللَّہُ فِیہِ وَذَلِکَ أَنْ یَأْتِیَ بِالْبَادِیَۃِ الرَّجُلَ لَہُ الْبِئْرُ لِیَسْقِی بِہَا مَاشِیَتَہُ وَیَکُونَ فِی مَائِہَا فَضْلٌ عَنْ مَاشِیَتِہِ فَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَالِکَ الْمَائِ عَنْ بَیْعِ ذَلِکَ الْفَضْلِ وَنَہَاہُ عَنْ مَنْعِہِ ثُمَّ سَاقَ الْکَلاَمَ إِلَی أَنَّہُ إِذَا حَمَلَ الْمَائَ عَلَی ظَہْرِہِ فَلاَ بَأْسَ أَنْ یَبِیعَہُ مِنْ غَیْرِہِ لأَنَّہُ مَالِکٌ لِمَا حَمَلَ۔قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَنْہَی عَنْ بَیْعِ فَضْلِ الْمَائِ ۔ [مسند عبدالرزاق، رقم ۱۴۴۹۵، مسند حمیدی، رقم ۸۳۶]
(١١٠٥٧) عمرو بن دینار فرماتی ہیں کہ میں نے ابو منہال کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ایاس بن عبدمزنی سے سنا کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ پانی بیچ رہا تھا میں نے کہا : پانی مت بیچو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانی بیچنے سے روکا کرتے تھے ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جہاں پر اللہ تعالیٰ نے پانی کا چشمہ جاری کیا ہے، وہاں پر وہ پانی بیچا جائے تو حرام ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اس چشمے پر اپنے جانور لے جائے تو چشمے کا مالک وہ پانی اسے پیسوں کے عوض دے، حالانکہ وہ پانی اس کی ضرورت سے زائد ہوتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے، البتہ اگر پانی کو اپنی پیٹھ پر رکھ کرلے جائے تو کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ وہ اپنی محنت کا بدلہ لیتا ہے۔