(۱۱۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ حَدَّثَنَا شَیْخٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ قَالَ : خَطَبَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَوْ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ : سَیَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ یَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلَی مَا فِی یَدَیْہِ وَلَمْ یُؤْمَرْ بِذَلِکَ قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ {وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ} وَتَنْہَدُ الأَشْرَارُ وَیُسْتَذَلُّ الأَخْیَارُ وَیُبَایِعُ الْمُضْطَرُّونَ وَقَدْ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ بَیْعِ الْمُضْطَرِّ وَعَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ قَبْلَ أَنْ تُطْعِمَ۔ [ضعیف]
(١١٠٧٦) صالح بن رستم کہتے ہیں کہ ہمیں بنو تمیم کے ایک شیخ نے بتایا کہ ہمیں حضرت علی (رض) نے خطبہ دیا : لوگوں پر کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، خوشحال آدمی اپنے مال پر اپنے ہاتھ کاٹے گا، حالانکہ اسے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ } [البقرہ ٢٣٧]
اس زمانے میں برے لوگ با عزت بن بیٹھیں گے اور بھلے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، مجبور لوگ بیع کریں گے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجبور کی بیع، دھوکے کی بیع اور کچے پھل کی بیع سے منع کیا ہے۔