(۱۱۰۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ یَعْنِی الْقَطَوَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُمَیْرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : اشْتَرَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَزُورًا مِنْ أَعْرَابِیٍّ بِوَسْقِ تَمْرٍ عَجْوَۃٍ فَطَلَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عِنْدَ أَہْلِہِ تَمْرًا فَلَمْ یَجِدْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلأَعْرَابِیِّ فَصَاحَ الأَعْرَابِیُّ : وَاغَدْرَاہُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : بَلْ أَنْتَ یَا عَدُوَّ اللَّہِ أَغْدَرُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : دَعُوہُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً۔ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی خَوْلَۃَ بِنْتِ حَکِیمٍ وَبَعَثَ بِالأَعْرَابِیِّ مَعَ الرَّسُولِ فَقَالَ : قُلْ لَہَا إِنِّی ابْتَعْتُ ہَذَا الْجَزُورَ مِنْ ہَذَا الأَعْرَابِیِّ بِوَسْقِ تَمْرٍ عَجْوَۃٍ فَلَمْ أَجِدْہُ عِنْدَ أَہْلِی فَأَسْلِفِینِی وَسْقَ تَمْرٍ عَجْوَۃٍ لِہَذَا الأَعْرَابِیِّ ۔ فَلَمَّا قَبَضَ الأَعْرَابِیُّ حَقَّہُ رَجَعَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : قَبَضْتَ ۔ قَالَ : نَعَمْ وَأَوْفَیْتَ وَأَطَبْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أُولَئِکَ خِیَارُ النَّاسِ الْمُوفُونَ الْمُطَیَّبُونَ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الأَزْہَرِ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عُمَیْرٍ مَوْلَی بَنِی أَسَدٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ۔
وَرُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ مُخْتَصَرًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [مسند احمد ۶/۲۶۸،۲۶۷۸۰]
(١١٠٩٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض ایک اونٹ خریدا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر سے کھجور کا پتا کرایا تو گھر میں کچھ نہ تھا، آپ نے اعرابی کو بتایا کہ کھجور فی الحال نہیں ملی۔ اعرابی چیخ پڑا، ہائے دھوکا ! صحابہ کرام نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا : اے اللہ کے دشمن ! تو دھوکے باز ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑدو جس نے کچھ لینا ہوتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خولہ بنت حکیم کی طرف اپنا ایک آدمی بھیجا اور اس کے ساتھ اعرابی کو بھی روانہ کردیا، آپ نے اپنے قاصد سے کہا کہ خولہ کو کہنا : میں نے یہ اونٹ خریدا ہے، اعرابی سے ایک وسق عجوہ کھجور کے عوض۔ میرے گھر میں کھجور نہیں ملی میری طرف سے اس اعرابی کو سلف کے طور پر ایک وسق عجوہ کھجور دے دو ۔ چنانچہ جب اعرابی نے اپنا حق وصول کرلیا تو آپ کے پاس لوٹا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کھجور مل گئی ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ نے تو پورا پورا وزن دیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہی بہترین لوگ ہوتے ہیں جو پوراوعدہ نبھاتے ہیں اور پورا وزن دیتے ہیں۔