(۱۱۱۴۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِیبٍ الْفَامِیُّ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ مِنْ أَصْلِہِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ وَثَابِتٍ وَحُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : َلاَ السِّعْرُ عَلَی عَہْدِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ غَلاَ السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا فَقَالَ : إِنَّ اللَّہَ ہُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّی لأَرْجُو أَنْ أَلْقَی رَبِّی وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنْکُمْ یَطْلُبُنِی بِمَظْلَمَۃٍ فِی دَمٍ وَلاَ مَالٍ۔ [مسند احمد ۲۸۶۳،۱۴۱۰۳]
(١١١٤٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! نرخ بڑھ گئے ہیں، آپ ہمارے لیے کوئی نرخ مقرر کردیں تو آپ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے، وہی نرخ کم کرنے والا اور بڑھا نے والا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملوں گا کہ مجھ سے کوئی ایک بھی خون یا مال کے بارے میں حق لینے والا نہیں ہوگا۔