hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11151

.

سنن البيهقي

11151
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۱۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ عَنْ یُونُسَ بْنِ یُوسُفَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ عَلَی حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ وَہُوَ یَبِیعُ زَبِیبًا لَہُ بِالسُّوقِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : إِمَّا أَنْ تَزِیدَ فِی السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ مِنْ سُوقِنَا۔ فَہَذَا مُخْتَصَرٌ۔وَتَمَامُہُ فِیمَا رَوَی الشَّافِعِیُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِیِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ : أَنَّہُ مَرَّ بِحَاطِبٍ بِسُوقِ الْمُصَلَّی وَبَیْنَ یَدَیْہِ غَرَارَتَانِ فِیہِمَا زَبِیبٌ فَسَأَلَہُ عَنْ سِعْرِہِمَا فَسَعَّرَ لَہُ مُدَّیْنِ لِکُلِّ دِرْہَمٍ۔ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ قَدْ حُدِّثْتُ بِعِیرٍ مُقْبِلَۃٍ مِنَ الطَّائِفِ تَحْمِلُ زَبِیبًا وَہُمْ یَعْتَبِرُونَ بِسِعْرِکَ فَإِمَّا أَنْ تَرْفَعَ فِی السِّعْرِ وَإِمَّا أَنْ تُدْخِلَ زَبِیبَکَ الْبَیْتَ فَتَبِیعَہُ کَیْفَ شِئْتَ۔ فَلَمَّا رَجَعَ عُمَرُ حَاسَبَ نَفْسَہُ ثُمَّ أَتَی حَاطِبًا فِی دَارِہِ فَقَالَ لَہُ : إِنَّ الَّذِی قُلْتُ لَیْسَ بِعَزْمَۃٍ مِنِّی وَلاَ قَضَائٍ إِنَّمَا ہُوَ شَیْء ٌ أَرَدْتُ بِہِ الْخَیْرَ لأَہْلِ الْبَلَدِ فَحَیْثُ شِئْتَ فَبِعْ وَکَیْفَ شِئْتَ فَبِعْ۔ وَہَذَا فِیمَا کَتَبَ إِلَیَّ أَبُو نُعَیْمٍ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْحَسَنِ الإِسْفَرَائِینِیُّ أَنَّ أَبَا عَوَانَۃَ أَخْبَرَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ فَذَکَرَہُ۔
(١١١٤٦) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : حضرت عمر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے پاس سے گزرے، وہ بازار میں کش مش بیچ رہے تھے، حضرت عمر نے فرمایا : یا تو آپ ریٹ کم کریں یا پھر ہمارے بازار سے چلے جائیں۔ یہ مختصر ہے یہ تمام حدیث امام شافعی نے روایت کی ہے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں : حضرت عمر عید گاہ کے بازار میں حضرت حاطب (رض) کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے دو ٹوکریاں کش مش کی بھری پڑی تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے ان کا نرخ پوچھا تو انھوں نے کہا : دو مد ایک درہم میں دے رہا ہوں۔ حضرت عمر (رض) ان سے کہنے لگے : مجھے طائف سے آنے والے ایک قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آپ کے نرخ کا اعتبار کرتے ہیں یا تو آپ نرخ کم کریں یا پھر گھر میں بیٹھ کر بیچیں جیسے چاہیں۔ چنانچہ جب حضرت عمر گھر آئے اور سوچ بچار کی تو پھر حضرت حاطب (رض) کے گھر ان سے ملنے گئے اور ان سے کہا : جو کچھ میں نے آپ سے کہا وہ میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں اور نہ میری طرف سے وہ فیصلہ تھا، میں نے یہ بات صرف شہریوں کی بھلائی کے لیے کی تھی۔ اب آپ جہاں چاہیں بیچیں اور جتنے میں چاہیں بیچیں ۔