(۱۱۱۵۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ خُلَیْدَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَفِ قُلْتُ إِنَّا نُسْلِفُ فَنَقُولُ : إِنْ أُعْطِینَا بُرًّا فَبِکَذَا وَإِنْ أُعْطِینَا تَمْرًا فَبِکَذَا قَالَ : أَسْلِمْ فِی کُلِّ صَنْفٍ وَرِقًا مَعْلُومَۃً فَإِنْ أَعْطَاکَہُ وَإِلاَّ فَخُذْ رَأْسَ مَالِکَ وَلاَ تَرُدَّہُ فِی سِلْعَۃٍ أُخْرَی۔ [مسند ابن ابی شیبہ ۲۱۴۰۰]
(١١١٥٤) زید بن خلیدہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے بیع سلف کے بارے میں پوچھا ، میں نے ان سے کہا : ہم بیع سلف کرتے ہیں اور کہتے ہیں : اگر ہمیں گندم دی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے اور تر کھجوردی گئی تو فلاں نرخ پر لیں گے۔ انھوں نے جواب دیا : ہر موسمِ گرما میں معلوم چاندی کے ساتھ بیع سلم کر اگر وہ تجھے دے اور اگر نہ دے تو اپنا راس المال واپس لے لو اور اسے کسی دوسرے سامان کے عوض مت بیچ۔