(۱۱۱۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی قِصَّۃِ فَتْحِ مَکَّۃَ قَالَ فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبِیدَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ فَقَالَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ وَسُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ وَزَادَ فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ قَالَ : فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِی سُفْیَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَہُمْ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷۸۰]
(١١١٧٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فتح مکہ کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو سفیان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! قریش کے سردار ہلاک ہو گے ہیں۔ آج کے بعد کوئی قریشی نہیں رہے گا تور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ابو سفیان کے گھر داخل ہوجائے اسے امن ملے گا اور جو شخص اپنا اسلحہ پھینک دے، اسے بھی امن ملے گا اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کردے وہ بھی محفوظ رہے گا۔ راوی کہتا ہے کہ لوگ ابو سفیان کے گھر داخل ہوگئے اور انھوں نے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیے ۔