(۱۱۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَمِنْ أَیْنَ لَمْ یَکُنْ نَجِسًا؟ قِیلَ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -تَوَضَّأَ وَلاَ شَکَّ أَنْ مِنَ الْوُضُوئِ مَا یُصِیبُ ثِیَابَہُ وَلَمْ یُعْلَمْ غَسَلَ ثِیَابَہُ مِنْہُ وَلاَ أَبْدَلَہَا وَلاَ عَلِمْتُہُ فَعَلَ ذَلِکَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، وَکَانَ مَعْقُولاً إِذْ لَمْ تَمَسَّ الْمَائَ نَجَاسَۃٌ أَنَّہُ لاَ یَنْجُسُ۔ [صحیح]
(١١٢١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر کہنے والا کہے کہ کہاں سے وہ نجس نہیں ہوا ؟ تو اسے کہا جائے گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور کچھ شک نہیں کہ وضو اس (پانی) سے جو کپڑے کو لگا اور اس سے کپڑا دھونے کا علم نہیں اور نہ اس نے اس کو متغیر کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں سے کسی نے بھی اس کو استعمال کیا ہو۔ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب پانی کو نجاست نہ لگے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔