(۱۱۳۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَطَائٍ
(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُولُ : أَشْہَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ قَالَ عَطَاء ٌ أَشْہَدُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَطَبَ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فِی یَوْمِ عِیدٍ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَظَنَّ أَنَّہُ لَمْ یُسْمِعْہُنَّ وَبِلاَلٌ مَعَہُ فَوَعَظَہُنَّ وَأَمَرَہُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی الْخَاتَمَ وَالْقُرْطَ وَبِلاَلٌ یَأْخُذُ فِی نَاحِیَۃِ ثَوْبِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ حَمَّادٍ وَفِی رِوَایَۃِ شُعْبَۃَ : خَرَجَ یَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ فَأَمَرَہُنَّ بِالصَّدَقَۃِ وَمَعَہُ بِلاَلٌ فَجَعَلْنَ یُلْقِینَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ قَرِیبًا مِنْ لَفْظِ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ حَمَّادٍ۔ [بخاری ، مسلم ۸۸۴]
(١١٣٢٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عید کی نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس آئے کیونکہ آپ کا گمان یہ تھا کہ آپ کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچی، حضرت بلال (رض) آپ کے ساتھ تھے، آپ نے عورتوں کو وعظ کیا اور انھیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ عورتیں اپنی انگوٹھیاں اور بالیاں کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ کپڑا حضرت بلا ل نے پکڑا ہوا تھا۔ ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : عید الفطر کے دن عید گاہ کی طرف گئے دو رکعتیں نماز پڑھائی۔ پھر خطبہ دیا : پھر عورتوں کے پاس آئے اور انھیں صدقہ کرنے کو کہا اور حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے تو وہ اپنے زیورات ڈالنے لگیں۔