(۱۱۳۵۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخَْبَرَنا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- جَالِسَۃٌ فَجَائَ ہُ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ یَخْتَصِمَانِ فِی أَشْیَائَ قَدْ دَرَسَتْ وَبَادَتْ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِنَّمَا أَقْضِی بَیْنَکُمَا فِیمَا لَمْ یُنْزَلْ عَلَیَّ فِیہِ شَیْء ٌ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِشَیْئٍ بِحُجَّۃٍ أُرَاہَا فَاقْتَطَعَ بِہَا مِنْ مَالِ أَخِیہِ ظُلْمًا أَتَی بِہَا إِسْطَامًا فِی عُنُقِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَبَکَی الرَّجُلاَنِ وَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا : حَقِّی لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ الَّذِی أَطْلُبُ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ اذْہَبَا فَاسْتَہِمَا وَتَوَاخِیَا ثُمَّ لِیُحَلِّلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمَا صَاحِبَہُ ۔ [ضعیف]
(١١٣٥٩) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ انصار کے دو آدمی آئے۔ وہ آپس میں کچھ چیزوں کی وجہ سے لڑائی کر رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم میں ایسی چیز کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں جس کا مجھے کوئی علم نہیں۔ پس میں نے جو دلیل دیکھی اس کے مطابق فیصلہ کردیا۔ اگر کسی نے اپنے بھائی کا مال ظلم کے ساتھ لے لیا تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن میں آگ کا شعلہ ہوگا۔ وہ دونوں آدمی رونے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میرا حق اس کے لیے ہے۔ آپ لے لیں ! آپ نے فرمایا : نہیں لیکن جاؤ اور قرعہ ڈالو اور نیکی کا ارادہ کرو، پھر آپس میں اسے حل کرلینا۔