(۱۱۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الأَکْوَعِ قَالَ : کُنْتُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : لاَ قَالَ : فَہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔ قَالُوا : لاَ فَصَلَّی عَلَیْہَا ثُمَّ أُتِیَ بِجَنَازَۃٍ أُخْرَی فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : لاَ۔ قَالَ : ہَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔ قَالُوا : ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ قَالَ: ثَلاَثُ کَیَّاتٍ ۔ قَالَ : ثُمَّ أُتِیَ بِالثَّالِثِ فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ صَلِّ عَلَیْہَا قَالَ : ہَلْ تَرَکَ عَلَیْہِ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ : فَہَلْ تَرَکَ مِنْ شَیْئٍ ؟ ۔قَالُوا : لاَ قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ أَبُو قَتَادَۃَ صَلِّ عَلَیْہِ وَعَلَیَّ دَیْنُہُ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ ہَکَذَا فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَفِی رِوَایَۃِ مَکِّیِّ بْنِ إِبْرَاہِیمَ فِی الْجَنَازَۃِ الأُخْرَی قَالُوا : ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ [صحیح]
(١١٣٩٦) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس پر نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ نے پوچھا : کیا اس پر قرض تو نہیں ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک اور جنازہ لایا گیا۔ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اس کی نماز جنازہ پڑھادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے ہاں میں جواب دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : تین دینار۔ آپ نے فرمایا : تین دینار مختصر سازوسامان، پھر ایک تیسرے آدمی کا جنازہ لایا گیا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کی نماز ے جنازہ پڑھ لو انصار کے ایک آدمی جسے ابو قتادہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابو قتادہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کا قرض میرے اوپر ہے۔ پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔