(۱۱۴۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : صَلَّیْتُ الْغَدَاۃَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ ابْنِ النَّوَّاحَۃِ وَأَصْحَابِہِ وَشَہَادَتِہِمْ لِمُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ بِالرِّسَالَۃِ وَإَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ بِقَتْلِ ابْنِ النَّوَّاحَۃِ ثُمَّ إِنَّہُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِی أُولَئِکَ النَّفَرِ فَقَامَ جَرِیرٌ وَالأَشْعَثُ فَقَالاَ : اسْتَتِبْہُمْ وَکَفِّلْہُمْ عَشَائِرَہُمْ فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا فَکَفَلَہُمْ عَشَائِرُہُمْ۔ ذَکَرُہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّرْجَمَۃِ بِلاَ إِسْنَادٍ۔
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَہُ مُصَدِّقًا فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَی جَارِیَۃِ امْرَأَتِہِ فَأَخَذَ حَمْزَۃُ مِنَ الرَّجُلِ کُفَلاَئَ حَتَّی قَدِمَ عَلَی عُمَرَ وَکَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَہُ مِائَۃً فَصَدَّقَہُمْ وَعَذَرَہُ بِالْجَہَالَۃِ۔ [صحیح۔ احمد ۱/۳۸۴ ۲، ۳۶۴۲]
(١١٤١٥) (الف) حارثہ بنمضرّفرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود (رض) کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، اس نے ابن نواحہ اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بیان کیا اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ ان کی شہادت بھی بیان کی اور ابن مسعود نے ابن نواحہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس جماعت کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا۔ جریر اور اشعث کھڑے ہوئے اور دونوں نے کہا : ان سے توبہ کراؤ اور ان کے قبیلے سے ضمانت مانگو۔ پھر انھوں نے توبہ کرلی اور ان کے قبیلے نے ان کی ضمانت دے دی۔
( ب ) قال البخاری : حضرت عمر (رض) نے حمزہ کو صدقہ وصول کرنے بھیجا، وہاں پہ ایک آدمی اپنی بیوی کی لونڈی پر واقع ہوا۔ حمزہ نے آدمی سے ضمانت لی یہاں تک کہ عمر (رض) کے پاس آئے۔ عمر نے اسے ١٠٠ کوڑے لگائے، پھر اس نے قبول کیا اور جہالت کا عذر کیا۔