(۱۱۴۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ مَوْلَی الأَنْصَارِ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَّہُمَا حَدَّثَاہُ أَوْ حَدَّثَا : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ سَہْلٍ وَمُحَیِّصَۃَ بْنَ مَسْعُودِ أَتَیَا خَیْبَرَ فِی حَاجَۃٍ فَتَفَرَّقَا فِی النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ فَجَائَ أَخُوہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ وَابْنَا عَمِّہِ مُحَیِّصَۃُ وَحُوَیِّصَۃُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَا أَمْرَ صَاحِبِہِمَا فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَکَلَّمَ وَکَانَ أَقْرَبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْکُبْرَ ۔
قَالَ یَحْیَی لِیَلِیَ الْکَلاَمَ الْکُبْرُ فَتَکَلَّمَا فِی أَمْرِ صَاحِبِہِمَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَوَارِیرِیِّ عَنْ حَمَّادٍ۔
[بخاری ۶۱۴۲، مسلم ۱۶۶۹]
(١١٤٣٦) عبداللہ بن سہل اور محیصۃ بن مسعود دونوں کسی کام کی غرض سے خیبر گئے، ایک کھجوروں کے باغ میں علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ عبداللہ بن سھل مار دیے گئے۔ ان کے بھائی عبدالر حمن بن سھل اور ان کے چچا کے بیٹے محیصہ اور حویصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھوں نے دونوں کا معاملہ بیان کیا۔ عبدالر حمن بات کرنے لگے، وہ زیادہ قریبی تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑا زیادہ حق دا رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں : کلام کا آغاز بڑے آدمی کی طرف ہو، پس ان دونوں نے کلام کی۔