(۱۱۴۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْعَبَّاسِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فِی امْرَأَتَیْنِ کَانَتَا تَخْرِزَانِ خَرِیزًا وَفِی الْبَیْتِ حُدَّاثٌ فَأَخْرَجَتْ إِحْدَاہُنَّ یَدَہَا تَشْخَبُ دَمًا فَقَالَتْ : أَصَابَتْنِی ہَذِہِ وَأَنْکَرَتِ الأُخْرَی قَالَ فَکَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی أَنَّ الْیَمِینَ عَلَی الْمُدَّعَی عَلَیْہِ وَقَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاہُمْ لاَدَّعَی نَاسٌ دِمَائَ نَاسٍ وَأَمْوَالِہِمْ ۔ ادْعُہَا فَاقْرَأْ عَلَیْہَا (إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللَّہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً أُوْلَئِکَ لاَ خَلاَقَ لَہُمْ فِی الآخِرَۃِ وَلاَ یُکَلِّمُہُمُ اللَّہُ وَلاَ یَنْظُرُ إِلَیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ یُزَکِّیہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ) وَقَرأَ عَلَیْہِنَّ فَاعْتَرَفَتْ فَبَلَغَہُ فَسَرَّہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ۔ [بخاری ۴۵۵۲]
(١١٤٤٧) ابن ابی ملیکۃ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس کی طرف دو عورتوں کے بارے میں لکھا، دونوں موزے بنایا کرتی تھیں۔ گھر میں باتیں کرنے لگیں، ان میں سے ایک نکلی تو اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا، کہنے لگی : مجھے اس عورت نے تکلیف پہنچائی ہے اور دوسری انکار کر رہی تھی۔ ابن عباس (رض) نے جواب میں لکھا، بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کیا ہے کہ قسم مدعی علیہ پر ہے اور کہا کہ اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور اموال کا دعوٰی کرنے لگیں گے۔ اس عورت کو بلاؤ اور اسے یہ آیت پڑھ کر سناؤ۔ بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ اللہ ان سے کلام کریں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھیں گے، قیامت کے دن اور نہ ان کو پاک کریں گے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ جب ان عورتوں پر یہ آیت تلاوت کی تو اس عورت نے اعتراف کرلیا۔ جب ابن عباس کو خبر ملی تو خوش ہوئے۔