hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11461

.

سنن البيهقي

11461
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : إِنْ أَقَرَّ الْمَرِیضُ لِوَارِثٍ أَوْ لِغَیْرِ وَارِثٍ جَازَ۔ وَبَلَغَنِی عَنْ أَبِی یَحْیَی السَّاجِیِّ أَنَّہُ قَالَ رُوِیَ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ إِقْرَارَہُ جَائِزٌ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ الْحَسَنُ أَحَقُّ مَا یُصَدَقَ بِہِ الرَّجُلُ آخِرُ یَوْمٍ مِنَ الدُّنْیَا وَأَوَّلُ یَوْمٍ مِنَ الآخِرَۃِ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَأَوْصَی رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ أَنْ لاَ تُکْشَفَ الْفَزَارِیَّۃُ عَمَّا أُغْلِقَ عَلَیْہِ بَابُہَا قَالَ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لاَ یَجُوزُ إِقْرَارُہُ لِسُوئِ الظَّنِّ بِالْوَرَثَۃِ وَقَدْ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ ۔ وَلاَ یَحِلُّ مَالُ الْمُسْلِمِینَ۔ لِقَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-: آیَۃُ الْمُنَافِقِ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ۔ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا} فَلَمْ یَخُصَّ وَارِثًا وَلاَ غَیْرَہُ۔ [ضعیف]
(١١٤٥٦) طاؤس کہتے ہیں : اگر مریض اپنے وارث یا غیر وارث کے لیے اقرار کرے تو جائز ہے۔ امام بخاری کہتے ہیں : حسن فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ آدمی کو سچا اس وقت سمجھنا چاہیے، جب دنیا میں اس کا آخری دن اور آخرت میں اس کا پہلا دن ہو اور رافع بن خدیج نے وسعت کی کہ ان کی بیوی فزاریہ کے کے دروازے میں جو مال بند ہے وہ نہ کھولا جائے۔ بعض لوگوں نے کہا : اس کا اقرار کرنا جائز نہیں، بدگمانی کی بناپر اپنے وارث کے لیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدگمانی سے بچو بیشک بدگمانی جھوٹی بات ہے اور مسلمانوں کا مال حلال نہیں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کی وجہ سے کہ منافق کی نشانی یہ بھی ہے جب اسے امانت دی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے اور اللہ فرماتے ہیں : بیشک اللہ نے حکم دیا امانتوں کو ان کے اہل کی طرف پہنچا دو ۔[النساء ]