(۱۱۵۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَتْنِی مَیْمُونَۃُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -أَصْبَحَ یَوْمًا وَاجِمًا ، قَالَتْ مَیْمُونَۃُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدِ اسْتَنْکَرْتُ ہَیْئَتَکَ مُنْذُ الْیَوْمِ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِنَّ جِبْرِیلَ کَانَ وَعَدَنِی أَنْ یَلْقَانِی اللَّیْلَۃَ فَلَمْ یَلْقَنِی ، أَمَا وَاللَّہِ مَا أَخْلَفَنِی))۔ قَالَ : فَظَلَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَوْمَہُ ذَلِکَ عَلَی ذَلِکَ ثُمَّ وَقَعَ فِی نَفْسِہِ جِرْوُ کَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا ، فَأَمَرَ بِہِ فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِہِ مَائً فَنَضَحَ مَکَانَہُ ، فَلَمَّا أَمْسَی لَقِیَہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ لَہُ : ((قَدْ کُنْتَ وَعَدْتَنِی أَنْ تَلْقَانِی الْبَارِحَۃَ))۔ قَالَ : أَجَلْ وَلَکِنَّا لاَ نَدْخُلُ بَیْتًا فِیہِ کَلْبٌ وَلاَ صُورَۃٌ۔ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلاَبِ حَتَّی إِنَّہُ یَأْمُرُ بِقَتْلِ کَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِیرِ ، وَیَتْرُکُ کَلْبَ الْحَائِطِ الْکَبِیرِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی ہَکَذَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۵/۲۱]
(١١٥٠) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ کو میمونہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن غم گین حالت میں صبح کی۔ میمونہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے آج آپ کو جنبی حالت میں پایا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات آپ کو ملوں گا، اللہ کی قسم ! وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غم گین تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں کتے کے بچے کا خیال آیاجو ہمارے خیمہ کے نیچے تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو اس کو نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لیا اور اس جگہ پر چھینٹے مارے۔ صبح کو جبرائیل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔ آپ نے فرمایا : آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ کل آپ مجھے ملو گے ! انھوں نے کہا : جی ہاں ! لیکن ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح ہی کتوں کو مارنے کا حکم دے دیا، حتی کہ آپ نے چھوٹے باغ کے کتے کو بھی مارنے کا حکم دیا اور بڑے باغ کے کتے کو چھوڑیا۔