hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11533

.

سنن البيهقي

11533
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۵۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ قَالاَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ الْجَرْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ قَالَ : صَنَعَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ قُرَیْشٍ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- طَعَامًا فَدَعَتْہُ وَأَصْحَابَہُ قَالَ فَذَہَبَ بِی أَبِی مَعَہُ قَالَ فَجَلَسْنَا بَیْنَ یَدَیْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الأَبْنَائِ مِنْ آبَائِہِمْ قَالَ فَلَمْ یَأْکُلُوا حَتَّی رَأَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَکَلَ فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لُقْمَتَۃً رَمَی بِہَا ثُمَّ قَالَ : إِنِّی لأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاۃٍ ذُبِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ صَاحِبِہَا ۔ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخِی وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَیْہِ وَلَوْ کَانَ خَیْرًا مِنْہَا لَمْ یُغَیِّرْ عَلَیَّ وَعَلَیَّ أَنْ أُرْضِیَہِ بِأَفْضَلِ مِنْہَا فَأَبَی أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا وَأَمْرَ بِالطَّعَامِ لِلأُسَارَی۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذَا لأَنَّہُ کَانَ یَخْشَی عَلَیْہِ الْفَسَادَ وَصَاحِبُہَا کَانَ غَائِبًا فَرَأَی مِنَ الْمَصْلَحَۃِ أَنْ یُطْعِمَہَا الأُسَارَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ ثُمَّ یَضْمَنُ لِصَاحِبِہَا۔[ضعیف]
(١١٥٢٨) عاصم بن کلیب اپنے والد سے مزینہ کے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس نے فرمایا : قریش میں سے مسلمانوں کی ایک عورت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا بنایا، اس نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو دعوت دی۔ (راوی) فرماتے ہیں : مجھے میرے باپ ساتھ لے گئے۔ ہم بیٹوں کی مجلس میں بیٹھ گئے، انھوں نے نہیں کھایا مگر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھایا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لقمہ پکڑاتو اس کو پھینک دیا، پھر کہا : میں ایسے گوشت کا ذائقہ پاتا ہوں جو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے۔ اس عورت نے کہا : یا رسول اللہ ! میرا بھائی ہے اور میں لوگوں میں بڑی عزت والی ہوں، اس پر اگر اس کے ہاں کوئی اور بہتر ہوتا تو مجھے یہ سپرد نہ کرتا اور میرے اوپر ہے کہ میں اسے راضی کرلوں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانے سے انکار کردیا اور حکم دیا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا جائے۔
شیخ فرماتے ہیں : یہ فساد کے ڈر کی وجہ سے تھا کہ اس کا مالک غائب تھا پس مصلحت کے تحت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں کو کھانے کا حکم دے دیا۔