(۱۱۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَرْوَی بِنْتَ أَوْسٍ ادَّعَتْ عَلَی سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ أَخَذَ شَیْئًا مِنْ أَرْضِہَا فَخَاصَمَتْہُ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَقَالَ سَعِیدٌ : أَنَا کُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِہَا َعْدَ الَّذِی سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ یَعْنِی ظُلْمًا طُوِّقَہُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِینَ ۔ فَقَالَ لَہُ مَرْوَانُ : لاَ أَسْأَلُکَ بَیِّنَۃً بَعْدَ ہَذَا ۔فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَأَعْمِ بَصَرَہَا وَاقْتُلْہَا فِی أَرْضِہَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّی ذَہَبَ بَصَرُہَا فَبَیْنَا ہِیَ تَمْشِی فِی أَرْضِہَا إِذْ وَقَعَتْ فِی حُفْرَۃٍ فَمَاتَتْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامٍ۔[بخاری ۳۱۹۸]
(١١٥٣٣) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ارویٰ بنت اوس نے سعید بن زید پر دعویٰ دائر کیا کہ سعید نے اس کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔ وہ عورت مروان کے پاس جھگڑا لے کر آئی۔ سعید نے کہا : میں کیسے اس کی زمین پر قبضہ کرسکتا ہوں جبکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ مروان نے کہا : تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا سنا ہے ؟ فرمایا : میں نے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت ظلم کے ساتھ لے لی اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ مروان نے کہا : اب میں تجھ سے کسی اور دلیل کا سوال نہیں کرتا، پھر کہا : اے اللہ ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی نظر ختم کر دے اور اسے اس کی زمین میں قتل کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ نہ فوت ہوئی حتیٰ کہ اس کی نظر چلی گی اور وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ اچانک ایکگڑھی میں گر کر مرگئی۔