(۱۱۵۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَکَّۃَ یَوْمَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَیْتِ ثَلاَثُمِائَۃٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ یَطْعَنُہَا بِعُودٍ فِی َدِہِ وَیَقُولُ : جَائَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیدُ جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُمَیْدِیِّ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ۔
[بخاری ۲۴۷۸، مسلم ۱۷۸۱]
(١١٥٥٠) حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ میں ٣٦٠ بت نصب تھے۔ آپ ان کو ایک چھڑی کے ساتھ توڑنے لگے۔ جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور آپ فرما رہے تھے : حق آچکا ہے اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہوسکا ہے اور نہ آئندہ کچھ ہوگا، حق آگیا اور باطل مغلوب ہوگیا۔ بیشک باطل مغلوب ہونے والا ہے۔