(۱۱۵۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِذَا وَقَعَتِ السُّہْمَانُ فَلاَ مُکَابَلَۃَ۔ قَالَ الأَصْمَعِیُّ الْمُکَابَلَۃُ تَکُونُ مِنَ الْحَبْسِ یَقُولُ : إِذَا حُدَّتِ الْحُدُودُ فَلاَ یُحْبَسُ أَحَدٌ عَنْ حَقِّہِ وَأَصْلُ ہَذَا مِنَ الْکَبْلِ وَہُوَ الْقَیْدُ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ وَالَّذِی فِی ہَذَا الْحَدِیثِ مِنَ الْفِقْہِ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ لاَ یَرَی الشُّفْعَۃَ لِلْجَارِ إِنَّمَا یَرَاہَا لِلْخَلِیطِ الْمُشَارِکِ وَہُوَ بَیِّنٌ فِی حَدِیثٍ لَہُ آخَرَ
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ الشَّکُّ مِنْ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ شُفْعَۃَ فِی بِئْرٍ وَلاَ فَحْلٍ وَالأُرَفُ یَقْطَعُ کُلَّ شُفْعَۃٍ۔
قَالَ ابْنُ إِدْرِیسَ الأُرَفُ الْمَعَالِمُ وَقَالَ الأَصْمَعِیُّ ہِیَ الْمَعَالِمُ وَالْحُدُودُ قَالَ وَہَذَا کَلاَمُ أَہْلِ الْحِجَازِ یُقَالُ مِنْہُ أَرَّفْتُ الدَّارَ وَالأَرْضَ تَأْرِیفًا إِذَا قَسَمْتُہَا وَحَدَّدْتُہَا۔
قَالَ ابْنُ إِدْرِیسَ وَقَوْلُہُ لاَ شُفْعَۃَ فِی بِئْرٍ وَلاَ فَحْلٍ أَظُنُّ الْفَحْلَ فَحْلَ النَّخْلِ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَسُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ۔ [ضعیف]
(١١٥٧٧) حضرت عثمان (رض) سے منقول ہے کہ جب حصے واقع ہوجائیں تو کوئی قید نہیں ہے۔ اصمعی فرماتے ہیں : قید تو روکنے سے ہوتی ہے۔ جب حدود واقع ہوجائیں تو کسی کو اس کے حق سے روکا نہیں جاسکتا اور لفظ الکبل سے مراد قید ہے۔ ابو عبید فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان (رض) ہمسائے کے لیے حق شفعہ کے قائل نہ تھے، وہ خیال کرتے تھے کہ حق شفعہ شریک کے لیے ہے۔ حضرت عثمان (رض) سے یہ بھی منقول ہے کہ شفعہ نہ کنویں میں ہے اور نہ سانڈ میں اور حد بندی ہر حقِ شفعہ کو ختم کردیتی ہے۔ امام ابن ادریس شافعی فرماتے ہیں : ارف سے مراد نشانات ہیں۔ اصمعی کہتے ہیں : یہ نشانات اور حدود ہیں، یہ اہل حجاز کا کلام ہے (اس میں سے ) یہ بھی ہے ” أَرَّفْتُ الدَّارَ وَالأَرْضَ تَأْرِیفًا “ جب میں نے اس کو تقسیم کردیا اور اس کی حد بندی کردی۔ امام شافعی کا قول ہے ” لاَ شُفْعَۃَ فِی بِئْرٍ وَلاَ فَحْلٍ “ میں میرے گمان کے مطابق فحل سے مراد کھجور کا نر درخت ہے۔