(۱۱۶۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی
قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْحَاقَ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ یَحْیَی -قَالَ حَجَّاجٌ فِی رِوَایَتِہِ: یَعْنِی امْرَأَتَہُ- عَنْ خَالَتِہَا وَکَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو قَتَادَۃَ فَسَأَلَ الْوَضُوئَ ، فَمَرَّتْ بِہِ الْہِرَّۃُ فَأَصْغَی الإِنَائَ إِلَیْہَا ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ کَأَنِّی أُنْکِرُ مَا یَصْنَعُ فَقَالَ یَا بِنْتَ أَخِی إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ لَنَا : ((إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسَۃٍ إِنَّمَا ہِیَ مِنَ الطَّوَّافِینَ وَالطَّوَّافَاتِ))۔
وَفِی حَدِیثِ الْحَوْضِیِّ : إِنَّ خَالَتَہَا حَدَّثَتْہَا : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، فَدَخَلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَیْہَا ، فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَمَرَّتْ بِہِ الْہِرَّۃُ ، فَأَصْغَی الإِنَائَ إِلَیْہَا فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَیْہِ کَأَنَّہَا تُنْکِرُ مَا یَصْنَعُ۔ ثُمَّ الْبَاقِی مِثْلُہُ۔
وَقَدْ رُوِیَ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ یَحْیَی عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ ابْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ۔ [حسن لغیرہٖ]
(١١٦١) (الف) ایک عورت اپنی خالہ سے نقل فرماتی ہے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ (رض) کی بیوی تھیں کہ میرے پاس ابوقتادہ (رض) آئے اور انھوں نے پانی مانگا، اتنے میں ان کے پاس سے بلی گزری تو آپ نے برتن جھکا دیا، میں نے انھیں سوالیہ نظروں سے دیکھا گویا میں اس کا انکار کر رہی تھی تو انھوں نے فرمایا : اے بھتیجی ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فرمایا : وہ نجس نہیں ہے وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے۔
(ب) حوضی کی حدیث میں ہے کہ اس کی خالہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور وہ عبداللہ بن ابی قتادہ (رض) کی بیوی تھی ان کے پاس ابو قتادہ (رض) آئے اور پانی منگوایا، اتنے میں ایک بلی گزری۔ انھوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، قتادہ کی بیوی ان کی طرف دیکھنا شروع ہوئی گویا جو وہ کر رہے تھے اس کا انکار کر رہی تھی باقی حدیث اس طرح ہے۔