(۱۱۶۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ فِی الرَّجُلِ لَہُ شُرَکَائُ فِی دَارٍ فَیُسَلِّمُ لَہُ الشُّرَکَائُ الشُّفْعَۃَ إِلاَّ رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرَادَ أَنْ یَأْخُذَ بِقَدْرِ حَقِّہِ مِنَ الشُّفْعَۃِ قَالُوا : لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ إِمَّا أَنْ یَأْخُذَہَا جَمِیعًا وَإِمَّا أَنْ یَتْرُکَہَا جَمِیعًا وَکَانُوا یَقُولُونَ فِی النَّفَرِ یَرِثُونَ مِنْ أَبِیہِمْ مَالاً فَیَمُوتُ أَحَدُہُمْ وَیَتْرُکُ وَلَدًا فَیَبِیعُ أَحَدُ وَلَدِہِ حَقَّہُ مِنْ ذَلِکَ الْمَالِ فَالْوَلَدُ وَأَعْمَامُہُ شُرَکَاؤُہُ فِی الشُّفْعَۃِ عَلَی قَدْرِ حِصَصِہِمْ إِذَا کَانَ الْمَالُ لَمْ یُقْسَمْ وَتَقَعْ فِیہِ الْحُدُودُ وَذَکَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ الْحَزْمِیِّ : أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَضَی بِذَلِکَ۔ [ضعیف]
(١١٦٠٤) بعض فقہاء سے ایسے آدمی کے بارے میں منقول ہیجس کے ایک گھر میں کئی شریک ہوں۔ اس کے علاوہ سارے اس کے لیے شفعہ تسلیم کرلیں گے اور وہ ایک اپنا حصہ لینے کا ارادہ رکھتا ہو فرماتی ہیں : اس اکیلے کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے یا وہ سارے حصے لے یا سب چھوڑ دے اور وہ اس گروہ کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنے باپ سے مال کے وارث بنے ہوں اور ایک فوت ہوجائے اور اس کا بیٹا ہو تو اس مال سے بچہ اپنا حق بیچ سکتا ہے۔ وہ بچہ اور اس کے چچے شفعہ میں شریک ہوں گے، جب تک مال تقسیم نہ ہو اہو اور حدود واقع نہ ہوئی ہوں۔