(۱۱۶۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَجْلَی الْیَہُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا ظَہَرَ عَلَی خَیْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا وَکَانَتِ الأَرْضُ حِینَ ظَہَرَ عَلَیْہَا لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُسْلِمِینَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْیَہُودِ مِنْہَا فَسَأَلَتِ الْیَہُودُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُقِرَّہُمْ بِہَا عَلَی أَنْ یَکْفُوا عَمَلَہَا وَلَہُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نُقِرُّکُمْ بِہَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا ۔ فَقَرُّوا بِہَا حَتَّی أَجْلاَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی إِمَارَتِہِ إِلَی تَیْمَائَ وَأَرِیحَائَ ۔ [صحیح]
(١١٦٢٣) ابن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہودیوں کو حجاز سے جلا وطن کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی خیبر کی فتح کے وقت یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اس وقت خیبر کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ جب یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے درخواست کی کہ انھیں یہاں ہی رہنے دیا جائے اور وہ زمین میں محنت کریں گے۔ جس کے صلے میں ان کو نصف پھل ملے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تم کو برقرار رکھتے ہیں اس شرط پر کہ جب تک ہماری مرضی ہوئی۔ پس وہ وہیں رہے یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے زمانہ میں انھیں تیماء اور اریحاء کی طرف جلاوطن کردیا۔