(۱۱۶۶) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْخَطِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِی دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ عَنْ أُمِّہِ : أَنَّ مَوْلاَۃً لَہَا أَہْدَتْ إِلَی عَائِشَۃَ صَحْفَۃَ ہَرِیسَۃٍ ، فَجَائَ تْ بِہَا وَعَائِشَۃُ قَائِمَۃٌ تُصَلِّی ، فَأَشَارَتْ إِلَیْہَا عَائِشَۃُ أَنْ ضَعِیہَا فَوَضَعَتْہَا وَعِنْدَ عَائِشَۃَ نِسْوَۃٌ ، فَجَائَ تِ الْہِرَّۃُ فَأَکَلَتْ مِنْہَا أُکْلَۃً -أَوْ قَالَ لُقْمَۃً -فَلَمَّا انْصَرَفَتْ قَالَتْ عَائِشَۃُ لِلنِّسْوَۃِ : کُلْنَ۔ فَجَعَلْنَ یَتَّقِینَ مَوْضِعَ فَمِ الْہِرَّۃِ ، فَأَخَذَتْہَا عَائِشَۃُ فَأَدَارَتْہَا ثُمَّ أَکَلَتْہَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّہَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّہَا مِنَ الطَّوَّافِینَ وَالطَّوَّافَاتِ عَلَیْکُمْ))۔ وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَتَوَضَّأُ بِفَضْلِہَا۔ وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ فِی مَعْنَاہُ وَفِیمَا ذَکَرْنَا کِفَایَۃٌ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۷۶]
(١١٦٦) داؤد بن صالح تمار اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کی لونڈی نے عائشہ (رض) کی طرف حلوے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا، وہ لے آئی۔ جبکہ سیدہ عائشہ (رض) کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں، عائشہ (رض) نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اسے رکھ دے، اس نے رکھ دیا۔ سیدہ عائشہ (رض) کے پاس عورتیں تھیں، بلی آئی اور اس میں سے ایک بار کھایا یا ایک لقمہ کھایا ۔ جب بلی چلی گئی تو سیدہ عائشہ (رض) نے عورتوں کو کہا : تم بلی کے منہ کی جگہ سے بچتی ہو۔ پھر سیدہ عائشہ (رض) نے اس کو پکڑا کر گھمایا پھر کھایا اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ نجس نہیں ہے، وہ تو تم پر چکر لگاتی رہتی ہے، نیز میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ۔ آپ اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۔