(۱۱۶۵۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیٌّ مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ مُشْتَمِلاً فِی خَمِیصَۃٍ فَقَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ {فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلاَّ أَیْقَنَ بِالْہَلَکَۃِ إِذْ أُمِرَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَتَوَلَّی عَنَّا حِینَ نَزَلَتْ وَذَکَرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ مَرَّ بِامْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَبَیْنَ یَدَیْ بَابِہَا طِینٌ قُلْتُ تُرِیدِینَ أَنْ تَبُلِّی ہَذَا الطِّینَ قَالَتْ : نَعَمْ فَشَارَطْتُہَا عَلَی کُلِّ ذَنُوبٍ بِتَمْرَۃٍ فَبَلَلْتُہُ لَہَا وَأَعْطَتْنِی سِتَّۃَ عَشْرَ تَمْرَۃً فَجِئْتُ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-۔
وَرُوِیَ عَنْ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی نَزْعِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِیَہُودِیٍّ کُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَۃٍ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی اسْتِقَائِ رَجُلٍ غَیْرِ مُسَمًّی۔ [ضعیف]
(١١٦٥٠) مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت علی ہمارے پاس آئے۔ آپ نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے : جب یہ آیت نازل ہوئی { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ } (پس آپ ان سیمنہ پھیر لیں۔ آپ قابل ملامت نہیں ہیں ) تو ہم میں سے ہر ایک کو فوت ہونے کا یقین ہوگیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ آپ ہم سے منہ پھیر لیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت علی (رض) نے بیان کیا کہ وہ ایک انصاری عورت کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے کے سامنے مٹی تھی۔ میں نے کہا : تو اسے گوندھنے کا ارادہ رکھتی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ میں نے شرط لگائی کہ ہر ڈول کے بدلے کھجور دے۔ میں نے اس مٹی کو گوندھا اور اس نے مجھے سولہ کھجوریں دیں۔ میں وہ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، حضرت فاطمہ (رض) سے بھی مروی ہے کہ حضرت علی نے یہودی کے باغ کو پانی لگایا اور ہر ڈول کے بدلے کھجورلی۔