(۱۱۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی أَیُّوبَ
(ح) َالَ وَحَدَّثَنَا یَعْقُوبُ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الرَّبِیعِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ جَمِیعًا عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ لَقِیطٍ أَخْبَرَہُ عَنْ مَالِکِ بْنِ ہُدْمٍ یَعْنِی عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ : غَزَوْنَا وَعَلَیْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَفِینَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَانْطَلَقْتُ أَلْتَمِسُ الْمَعِیشَۃَ فَأَلْفَیْتُ قَوْمًا یُرِیدُونَ یَنْحِرُونَ جَزُورًا لَہُمْ فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتُمْ کَفَیْتُکُمْ نَحْرَہَا وَعَمَلَہَا وَأَعْطُونِی مِنْہَا فَفَعَلْتُ فَأَعْطُونِی مِنْہَا شَیْئًا فَصَنَعْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَنِی : مِنْ أَیْنَ ہُوَ؟ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ : أَسْمَعُکَ قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَکَ وَأَبَی أَنْ یَأْکُلَہُ ثُمَّ أَتَیْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ لِی مِثْلَہَا وَأَبَی أَنْ یَأْکُلَہُ فَلَمَّا رَأَیْتُ ذَلِکَ تَرَکْتُہَا قَالَ : ثُمَّ أَبْرَدُونِی فِی فَتْحٍ لَنَا فَقَدِمَتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : صَاحِبُ الْجَزُورِ ۔ وَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ شَیْئًا۔ وَفِی حَدِیثِ سَعِیدٍ لَمْ یَزِدْنِی عَلَی ذَلِکَ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَفِی ہَذَا أَنَّ الأَجُرَۃَ کَانَتْ مَجْہُولَۃً وَفِی الذِّمَّۃِ مُتَعَلِّقَۃً بِعَیْنٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١١٦٥٣) حضرت عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ کی اور ہمارے امیر عمرو بن عاص تھے اور ہم میں عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بھی تھے۔ ہمیں شدت کی بھوک لگی۔ میں چلا کہ کوئی کام تلاش کروں۔ میں نے ایک قوم کو پایا وہ اونٹ ذبح کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا : اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ کام کردیتا ہوں اور مجھے اس سے کچھ دے دینا۔ میں نے گوشت بنایا۔ پھر میں عمر کے پاس آیا۔ انھوں نے سوال کیا : یہ کہاں سے آیا ہے ؟ میں نے بتایا تو انھوں نے کہا : تو نے اجرت میں جلدی کی ہے اور کھانے سے انکار کردیا۔ پھر میں نے ابو عبیدہ کو بتایاتو اس نے بھی حضرت عمر والی بات کہی اور کھانے سے انکار کردیا۔ میں نے یہ دیکھ کر اسے چھوڑ دیا، کہتے ہیں : پھر ہمیں فتح ملی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اونٹ والے تم ہو اور مجھے کچھ نہ کہا۔
شیخ فرماتے ہیں : اس میں یہ بات ہے کہ کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں چیز نقد تھی۔