(۱۱۶۵۵) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا سَلِیمُ بْنُ حَیَّانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : نَشَأْتُ یَتِیمًا وَہَاجَرْتُ مِسْکِینًا وَکُنْتُ أَجِیرًا لاِبْنِ عَفَّانَ وَابْنَۃِ غَزْوَانَ عَلَی طَعَامِ بَطْنِی وَعُقْبَۃِ رِجْلِی أَحْطِبُ لَہُمْ إِذَا نَزَلُوا وأَحْدُو بِہِمْ إِذَا سَارُوا فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی جَعَلَ الدِّینَ قِوَامًا وَأَبَا ہُرَیْرَۃَ إِمَامًا۔
فَلَیْسَ فِی ہَذَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- عَلِمَ بِہِ فَأَقَرَّہُمْ عَلَی ذَلِکَ وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ ہَذَا مُوَاضَعَۃٌ بَیْنَہُمْ عَلَی سَبِیلِ التَّرَاضِی لاَ عَلَی سَبِیلِ التَّعَاقُدِ۔[ضعیف۔ ابن ماجہ ۲۴۷]
(١١٦٥٥) حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی اور میں نے مسکینی کی حالت میں ہجرت کی اور میں ابو عفان کے ہاں مزدور تھا اور اس کے بیٹے غزو ان کے ہاں بھی اپنے پیٹ کے بقدر کھانے پر اور اپنے گھر والوں کے کھانے کے بقدر۔ جب وہ گھر پر ہوتے تو لکڑیاں اکٹھی کرتا اور جب وہ سفر پر ہوتے تو اس کا سامان تیار کرتا۔
اب ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کو مضبوطی بخشی اور ابو ہریرہ (رض) کو امام بنایا۔
اس میں یہ نہیں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جان لینے کے بعد بھی برقرار رہنے دیا اور احتمال ہے کہ یہاں دونوں کے درمیان رضامندی تھی نہ کہ عقد تھا۔