(۱۱۶۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی الْہَیْثَمِ : أَنَّہُ قَدِمَ دُہْنٌ لَہُ مِنَ الْبَصْرِۃ وَإِنَّہُ اسْتَأْجَرَ حَمَّالاً یَحْمِلُہُ وَالْقَارُورَۃُ ثَمَنُ ثَلاَثِمِائَۃٍ أَوْ أَرْبَعِمِائَۃٍ فَوَقَعَتِ الْقَارُورَۃُ فَانْکَسَرَتْ فَأَرَدْتُ أَنْ یُصَالِحَنِی فَأَبَی فَخَاصَمْتُہُ إِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ لَہُ شُرَیْحٌ : إِنَّمَا أَعْطَی الأَجْرَ لِتَضْمَنَ فَضَمَّنَہُ شُرَیْحٌ ثُمَّ لَمْ یَزَلِ النَّاسُ حَتَّی صَالَحْتُہُ۔
[ضعیف]
(١١٦٦٩) شعبہ ابو ہیشم سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ بصرہ سے تیل لے کر آئے ، انھوں نے تیل لانے کی اجرت بھی لی اور تیل والا برتن تین یا چار سو کا تھا۔ وہ گر کر ٹوٹ گیا، میں نے ارادہ کیا کہ ان سے صلح ہوجائے۔ لیکن اس نے انکار کردیا۔ میں شریح کے پاس یہ معاملہ لے کر گیا، شریح نے ان سے کہا کہ اس نے اجرت اس لیے دی تھی کہ آپ ذمہ دار ہیں۔ قاضی شریح نے اسے ضامن ٹھہرایا، پھر لوگ ہمیشہ کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ میری ان سے صلح ہوگئی۔