(۱۱۶۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ الْقَصَّارُ وَقَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا مِنْ صَاحِبِ حَدٍّ أُقِیمَ عَلَیْہِ أَجِدُ فِی نَفْسِی عَلَیْہِ شَیئًا إِلاَّ صَاحِبَ الْخَمْرِ لَوْ مَاتَ لَوَدَیْتُہُ لأَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَسُنَّہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔
وَإِنَّمَا أَرَادَ لَمْ یَسُنَّ مَا وَرَائَ الأَرْبَعِینَ إِلَی الثَّمَانِینِ وَہُو مَا زَادُوا عَلَی حَدِّہِ عَلَی وَجْہِ التَّعْزِیرِ فَأَمَّا الأَرْبَعُونَ بِالْجَرِیدِ وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّیَابِ فَہُوَ حَدٌّ ثَابِتٌ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔[بخاری ۶۷۷۸، مسلم ۱۷۰۷]
(١١٦٧٤) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : جس آدمی پر حد لگے، میں اپنے ذہن میں اس کے بارے میں کوئی چیز پاتا ہوں مگر صاحبِ خمر اگر فوت ہوجائے تو اس کی دیت دی جائے گی۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے جاری نہیں کیا۔
لم یسنہ سے مراد یہ ہے کہ چالیس سے اسی کے علاوہ نہیں جاری کیا اور حد میں جو انھوں نے زیادہ کیا وہ ڈرانے کی وجہ سے ہے۔ چالیس کھجور کی ٹہنی سے اور جوتوں سے اور کپڑے کے کنارے سے یہ حد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔