hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11682

.

سنن البيهقي

11682
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۷۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ وَمُسَدَّدٌ وَالْحَجَبِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِیِّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَہْطًا مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- انْطَلَقُوا فِی سَفْرَۃٍ سَافَرُوہَا حَتَّی نَزَلُوا بِحَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوہُمْ فَأَبَوْا أَنْ یُضَیِّفُوہُمْ فَلُدِغَ سَیِّدُ الْحَیِّ فَسَعَوْا لَہُ بِکُلِّ شَیْئٍ لاَ یَنْفَعُہُ شَیْئٌ حَتَّی قَالَ بَعْضُہُمْ : لَوْ أَتَیْتُمْ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطَ الَّذِینَ نَزَلُوا بِکُمْ لَعَلَّہُ أَنْ یَکُونَ عِنْدَ بَعْضِہِمْ شَیْئٌ یَنْفَعُ صَاحِبَکُمْ فَأَتَوْہُمْ فَقَالُوا : أَیُّہَا الرَّہْطُ إِنَّ سَیِّدَنَا لُدِغَ فَسَعَیْنَا لَہُ بِکُلِّ شَیْئٍ لاَ یَنْفَعُہُ شَیْئٌ فَہَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْکُمْ شَیْئٌ یَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ قَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ : نَعَمْ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْقِی وَلَکِنْ وَاللَّہِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاکُمْ فَأَبَیْتُمْ أَنْ تُضِیِّفُونَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّی تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً فَصَالَحُوہُمْ عَلَی قَطِیعٍ مِنَ الْغَنَمِ قَالَ فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ یَتْفُلُ عَلَیْہِ وَیَقُولُ (الْحَمْدُ للَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ) حَتَّی بَرَأَ فَکَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ حَتَّی انْطَلَقَ یَمْشِی مَا بِہِ قَلَبَۃٌ فَأَوْفَوْہُمْ جُعْلَہُمُ الَّذِی صَالَحُوہُمْ عَلَیْہِ فَقَالَ : اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِی رَقَی : لاَ تَفْعَلُوا حَتَّی نَأْتِیَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَنَذْکُرَ لَہُ الَّذِی کَانَ فَنَنْظُرَ مَا یَأْمُرُنَا َالَ فَغَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَہُ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ : مَا یُدْرِیکَ أَنَّہَا رُقْیَۃٌ ۔ قَالَ وَقَالَ : أَصَبْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِی مَعَکُمْ بِسَہْمٍ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ عَلَی الاِنْفِرَادِ وَزَادَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الْحَدِیثِ وَالْمَعْنَی وَاحِدٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ وَحَدِیثُ الْمُزَوَّجَۃِ عَلَی تَعْلِیمِ الْقُرْآنِ دَلِیلٌ فِیہِ وَمَوْضِعُہُ کِتَابُ الصَّدَاقِ۔
(١١٦٧٧) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ انصار صحابہ کرام کی جماعت کسی سفر میں گئی۔ انھوں نے راستے میں کسی عرب قبیلے کے قریب پڑاؤ ڈالا اور ان سے کھانا طلب کیا تو انھوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا۔ قبیلے کے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا، انھوں نے ہر طرح کوشش کی لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا۔ ایک شخص کہنے لگا : اس جماعت کے پاس جاؤ جو تمہارے ہاں ٹھہری ہوئی ہے شاید ان کے پاس اس کا کوئی علاج ہو۔ چنانچہ انھوں نے کہا : اے جماعت ! ہمارے سردار کو سانپ نے کاٹ لیا ہے اور ہم ہر طرح کوشش کرچکے ہیں لیکن افاقہ ہیں لیکن افاقہ نہیں ہو رہا۔ تمہارے پاس اس کا کوئی علاج اور حل ہے ؟ تو ایک صحابی کہنے لگے : ہاں میں دم کرنا جانتاہوں۔ لیکن ہم نے تم سے کھانا مانگا تو تم نے مہان نوازی سے انکار کردیا اب میں ایک دم کروں گا جب تم مجھے اس کا کچھ عوض دو ۔ چنانچہ انھوں نے صحابہ سے بکریوں کے ایک ریوڑ پر صلح کرلی۔ وہ صحابی گئے اور اسے دم کرنے لگے اور وہ سورة فاتحہ پڑھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعدم وہ بالکل تندرست ہوگیا گویا اسے رسیوں سے کھول دیا گیا ہو اور وہ اسے چلنے لگا گویا اسے کوئی تکلف نہ ہو۔ چنانچہ انھوں نے وعدے کے مطابق وہ عوض ادا کردیا۔ لوگوں نے کہا : اسے تقسیم کرلو وہ دم والے صحابی کہنے لگے : ٹھہرو ! ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر مسئلہ معلوم کریں پھر وہ جو حکم فرمائیں۔ چنانچہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ قصہ بیان کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور فرمایا : ہمیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے پھر فرمایا : اسے تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔