(۱۱۶۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِیُّ عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ زِیَادٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَ وَالْقُرْآنَ فَأَہْدَی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا فَقُلْتُ : لَیْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِی عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لآتِیَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَلأَسْأَلَنَّہُ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہْدَی رَجُلٌ إِلَیَّ قَوْسًا مِمَّنْ کُنْتُ أُعَلِّمُہُ الْکِتَابَ وَالْقُرْآنَ وَلَیْسَتْ بِمَالٍ وَأَرْمِی عَلَیْہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ۔ قَالَ : إِنْ کُنْتَ تُحِبُّ أَنْ تُطَوَّقَ بِطَوْقٍ مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔ [صحیح]
(١١٦٨١) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اہل صفہ کو لکھنا اور قرآن مجید پڑھنا سکھایا۔ ان میں سے ایک آدمی نے کمان ہدیے کے طور پر دی۔ میں نے کہا : کوئی مال نہیں۔ میں اسے اللہ کے راستے میں پھینک دوں گا۔ میں ضرور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں سوال کروں گا۔ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے ایک آدمی نے لکھنے اور قرآن مجید کے بدلے کمان دی ہے، وہ مال تو نہیں، میں اسے اللہ کے راستے میں پھینکوں گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو پسند کرتا ہے کہ آگ کا طوق ڈالے تو اسے قبول کر۔