(۱۱۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْمُخْتَارِ الْمَوْصِلِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ أَنَتَوَضَّأُ بِمَا أَفْضَلَتِ الْحُمُرُ؟ قَالَ : ((نَعَمْ وَبِمَا أَفْضَلَتِ السِّبَاعُ))۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔
وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی الأَسْلَمِیُّ مُخْتَلَفٌ فِی ثِقَتِہِ ضَعَّفَہُ أَکْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ وَطَعَنُوا فِیہِ وَکَانَ الشَّافِعِیُّ یُبْعِدُہُ عَنِ الْکَذِبِ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا قَالَ سَمِعْتُ الرَّبِیعَ یَقُولُ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ : کَانَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی یَحْیَی قَدَرِیًّا۔ قُلْتُ لِلرَّبِیعِ : فَمَا حَمَلَ الشَّافِعِیَّ عَلَی أَنْ رَوَی عَنْہُ؟ قَالَ : کَانَ یَقُولُ لأَنَّ یَخِرَّ إِبْرَاہِیمُ مِنْ بُعْدٍ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ أَنْ یَکْذِبَ وَکَانَ ثِقَۃً فِی الْحَدِیثِ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ قَدْ نَظَرْتُ أَنَا فِی أَحَادِیثِہِ فَلَیْسَ فِیہَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ ، وَإِنَّمَا یَرْوِی الْمُنْکَرُ إِذَا کَانَ الْعَہْدَۃُ مِنْ قِبَلِ الرَّاوِی عَنْہُ أَوْ مِنْ قِبَلِ مَنْ یَرْوِی إِبْرَاہِیمُ عَنْہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ تَابَعَہُ فِی رِوَایَۃِ ہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ الأَشْہَلِیُّ وَقَدْ ذَکَرْنَاہُ فِی کِتَابِ الْمَعْرِفَۃِ۔ [ضعیف]
(١١٧٩) (الف) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرلیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اور درندوں کے بچے ہوئے سے بھی۔
(ب) ابراہیم بن ابویحییٰ اسلمی کے ثقہ ہونے میں روایات مختلف ہیں۔ اکثر محدثین نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس پر جرح بھی کی ہے۔ (ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن ابویحییٰ قدری تھا، میں نے ربیع سے کہا : پھر کس بات نے امام شافعی (رح) کو اس سے نقل کرنے پر ابھارا ؟ انھوں نے فرمایا : ابراہیم بعد میں جھوٹ کو موت سے بھی زیادہ ناپسند کرتا تھا اور وہ حدیث میں با اعتماد تھا۔ (د) ابواحمد کہتے ہیں کہ میں نے اس کی احادیث دیکھیں ہیں، ان میں کوئی حدیث منکر نہیں۔