(۱۱۷۹۱) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَبُو خَالِدٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ وَزَرٍ عَنْ أَبِیہِ وَزَرٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عِمْرَانَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ شُعَیْبٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَاصِمٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ حُصَیْنِ بْنِ مُشَمِّتٍ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ وَفْدَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَبَایَعَہُ بَیْعَۃَ الإِسْلاَمِ وَصَدَّقَ إِلَیْہِ مَالَہُ وَأَقْطَعَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- مِیَاہً عِدَّۃً فَسَمَّاہُنَّ۔ إِلاَّ أَنَّ شَیْخَنَا لَمْ یَضْبِطْ أَسَامِیَ تِلْکَ الْمَوَاضِعِ قَالَ: وَشَرَطَ النَّبِیُّ -ﷺ- لاِبْنِ مُشَمِّتٍ فِیمَا أَقْطَعَہُ إِیَّاہُ أَنْ لاَ یُبَاحَ مَاؤُہُ وَلاَ یُعْقَرُ مَرْعَاہُ وَلاَ یُعْضَدَ شَجَرُہُ۔ [ضعیف۔۱]
(١١٧٩١) حضرت حصین بن مشمت فرماتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور اسلام قبول کرنے کی بیعت کی اور اپنا مال صدقہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پانی کے کنویں بطور جاگیر دیے۔ ان کا نام لیا، لیکن ہمارے شیخ ان ناموں کو یاد نہ رکھ سکے۔ راوی کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر شرط لگائی جو ابن مشمت کو دیا کہ وہ اس کا پانی مباح نہ کرے گا اور اس کی چراگاہ کو نہ کاٹے گا اور نہ اس کے درختوں کو کاٹے گا۔