(۱۱۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا کَہْمَسٌ عَنْ سَیَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا بُہَیْسَۃُ عَنْ أَبِیہَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ أَبِی النَّبِیَّ -ﷺ- فَدَخَلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَمِیصِہِ فَجَعَلَ یُقَبِّلُ وَیَلْتَزِمُ ثُمَّ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الشَّیْئُ الَّذِی لاَ یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : الْمَائُ ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الشَّیْئُ الَّذِی لاَ یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : الْمِلْحُ۔ قَالَ: یَا نَبِیَّ اللَّہِ مَا الشَّیْئُ الَّذِی لاَ یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : أَنْ تَفْعَلَ الْخَیْرَ خَیْرٌ لَکَ۔ [ضعیف]
(١١٨٣٠) بنی فزارۃ کے ایک آدمی سیار بن منظور نے اپنے والد سے اور اس نیبھیسہ نامی عورت سے اور اس نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میرے والد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی۔ وہ داخل ہوئے۔ آپ کا بوسہ لیا اور چمٹ گئے اور کہا : یا نبی اللہ ! کونسی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی۔ پھر کہا : یا نبی اللہ ! کونسی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نمک۔ پھر کہا : یا نبی اللہ ! کونسی چیز ہے جس کا روکنا حلال نہیں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو جو بھی اچھا کام کرے تیرے لیے بہتر ہے۔