(۱۱۸۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ کُلْثُومٍ عَنْ زَیْنَبَ : أَنَّہَا کَانَتْ تَفْلِی رَأْسَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعِنْدَہُ امْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَنِسَائٌ مِنْ الْمُہَاجِرَاتِ وَہُنَّ یَشْتَکِینَ مَنَازِلَہُنَّ أَنَّہَا تَضِیقُ عَلَیْہِنَّ وَیُخْرَجْنَ مِنْہَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُوَرَّثَ دُورَ الْمُہَاجِرِینَ النِّسَائُ فَمَاتَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْہُ امْرَأَتُہُ دَارًا بِالْمَدِینَۃِ۔ [صحیح۔احمد ۶/۳۶۳]
(١١٨٧٦) حضرت زینب سی منقول ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر سے جوئیں نکال رہی تھیں تو آپ کے پاس عثمان بن عفان (رض) کی بیوی اور دوسری مہاجر عورتیں آئیں اور وہ اپنے گھروں کی شکایت کرنے لگیں کہ وہ تنگ ہیں اور وہ ان سے نکلنا چاہتی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مہاجرین عورتوں کو گھروں کا وارث بنایا جائے۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فوت ہوگئے۔ ان کی بیوی کو مدینہ میں گھر کا وارث بنایا گیا۔