(۱۱۸۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی ہَارُونُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَیْرِیَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَہُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یُقَالُ لَہُ ثَمْغٌ وَکَانَ نَخْلاً فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی اسْتَفَدْتُ مَالاً وَہُوَ عِنْدِی نَفِیسٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : تَصَدَّقَ بِأَصْلِہِ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُوہَبُ وَلاَ یُورَثُ وَلَکِنْ یُنْفَقُ ثَمَرُہُ ۔ فَتَصَدَّقَ بِہِ عُمَرُ فَصَدَقَتُہُ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْمَسَاکِینِ وَالضَّیْفِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَلِذِی الْقُرْبَی وَلاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہُ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہُ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیقَہُ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ بِہِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ َکَذَا۔ [صحیح]
(١١٨٩١) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مال صدقہ کیا، اسے ثمغ کہا جاتا تھا۔ وہ ایک باغ تھا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے مال ملا ہے جو بڑا پسندیدہ ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے صدقہ کر دوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اس کی اصل صدقہ کر دے، نہ بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے، نہ وارث بنایا جائے، لیکن اس کا پھل صدقہ کر دے پس حضرت عمر (رض) نے اللہ کے راستے میں، گردن آزاد کرنے میں، مساکین، مہمان، مسافر، رشتہ داروں کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ اس سے معروف طریقے سے کھالے یا اپنے دوست کو کھلا دے اور جو محتاج ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔