hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11898

.

سنن البيهقي

11898
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ صَدَقَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ نَسَخَہَا لِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی ثَمْغٍ أَنَّہُ إِلَی حَفْصَۃَ مَا عَاشَتْ تُنْفِقُ ثَمَرَہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِنَّہُ إِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُشْتَرَی أَصْلُہُ أَبَدًا وَلاَ یُوہَبُ وَمَنْ وَلِیَہُ فَلاَ حَرَجَ عَلَیْہِ فِی ثَمَرِہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً فَما عَفَا عَنْہُ مِنْ ثَمَرِہِ فَہُوَ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَالضَّیْفِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَابْنِ السَّبِیلِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ تُنْفِقُہُ حَیْثُ أَرَاہَا اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ فَإِنْ تُوُفِّیَتْ فَإِلَی ذِی الرَّأْیِ مِنْ وَلَدِی وَالْمِائَۃُ الْوَسْقِ الَّذِی أَطْعَمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالْوَادِی بِیَدِی لَمْ أَہْلِکْہَا فَإِنَّہُ مَعَ ثَمْغٍ عَلَی سُنَتِہِ الَّتِی أَمَرْتُ بِہَا وَإِنْ شَائَ وَلِیُّ ثَمْغٍ اشْتَرَی مِنْ ثَمَرِہِ رَقِیقًا لِعَمَلِہِ۔ وَکَتَبَ مُعَیْقِیبٌ وَشَہِدَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الأَرْقَمِ بِسْم اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا مَا أَوْصَی بِہِ عَبْدُ اللَّہِ عُمَرُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ إِنْ حَدَثَ بِہِ حَدَثٌ أَنَّ ثَمْغًا وَصِرْمَۃَ ابْنِ الأَکْوَعِ وَالْعَبْدَ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ السَّہْمِ الَّذِی بِخَیْبَرَ وَرَقِیقَہُ الَّذِی فِیہِ وَالْمِائَۃَ یَعْنِی الْوَسْقَ الَّذِی أَطْعَمَہُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَلِیہِ حَفْصَۃُ مَا عَاشَتْ ثُمَّ یَلِیہِ ذُو الرَّأْیِ مِنْ أَہْلِہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُشْتَرَی یُنْفِقُہُ حَیْثُ رَأَی مِنَ السَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ وَذَوِی الْقُرْبَی وَلاَ حَرَجَ عَلَی وَلِیِّہِ إِنْ أَکَلَ أَوْ آکَلَ أَوِ اشْتَرَی لَہُ رَقِیقًا مِنْہُ۔ [صحیح]
(١١٨٩٣) حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ثمغ والا مال حضرت حفصہ کے لیے تھا، جب تک وہ زندہ رہیں، اس کا پھل خرچ کریں گی، جتنا اللہ نے لگایا، پس اگر وہ فوت ہوجائیں تو وہ ان کے خاندان میں سے زیادہ عقل مند کی طرف منتقل ہوجائے گا، اس کی کبھی نہ بیع نہیں کی جائے گی اور نہ ہبہ کیا جائے گا اور جو اس کا والی ہوگا، اس پر اس کا پھل کھانا معروف طریقے سے یا اپنے محتاج دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہوگا، جو پھل بچے وہ سائل، محروم، مہمان، رشتہ داروں، مسافر، اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ پس اگر (حفصہ) فوت ہوجائیں تو میری اولاد میں سے عقل مند کی طرف لوٹ جائے گا اور ایک سو وسق جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی میں کھلائے ان کبھی ختم کروں گا اور وہ ثمغ کے ساتھ اسی طریقے پر رہیں گے جس کا میں نے حکم دیا ہے۔ اگر ثمغ کا والی چاہے اس کے پھل سے کام کرنے کے لیے غلام خرید سکتا ہے اور معیقیب نے لکھا : عبداللہ بن ارقم اس پر گواہ تھے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ وہ ہے جو اللہ کے بندے عمر نے وصیت کی : اگر وہ فوت ہوجائے بیشک ثمغ اور صرمہ بن اکوع اور وہ بندہ جو اس میں ہو اور ایک سو حصے خیبر والے اور اس کا غلام اور ایک سو وسق جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلایا، حفصہ کے پاس ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے پھر اس کو ملے کا جو اس کے اہل میں سے عقل مند ہو۔ نہ بیچا جائے گا اور نہ خریدا جائے گا۔ وہ اس سے خرچ کرے گا، جب دیکھے گا کہ کوئی سائل، محرم، رشتہ دارہو اور اس کے والی پر کوئی حرج نہیں کہ اس سے کھالے یا کوئی غلام خرید لے۔