(۱۱۸۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ قَطَعَ لَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَنْبُعَ ثُمَّ اشْتَرَی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی قَطِیعَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَشْیَائَ فَحَفَرَ فِیہَا عَیْنًا فَبَیْنَا ہُمْ یَعْمَلُونَ فِیہَا إِذْ تَفَجَّرَ عَلَیْہِمْ مِثْلُ عُنُقِ الْجَزُورِ مِنَ الْمَائِ فَأُتِیَ عَلِیٌّ وَبُشِّرَ بِذَلِکَ قَالَ : بَشِّرِ الْوَارِثَ ثُمَّ تَصَدَّقْ بِہَا عَلَی الْفُقَرَائِ وَالْمَسَاکِینِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ وَفِی السِّلْمِ وَفِی الْحَرْبِ لِیَوْمٍ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ لِیَصْرِفَ اللَّہُ تَعَالَی بِہَا وَجْہِی عَنِ النَّارِ وَیَصْرِفَ النَّارَ عَنْ وَجْہِی۔
وَرُوِّینَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّ عُمَرَ وَعَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَفَا أَرْضًا لَہُمَا بَتًا بَتْلاً۔ [ضعیف]
(١١٨٩٧) جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی (رض) کے لیے جاگیر دی ایک کنواں۔ پھر حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) کی جاگیر بھی خرید لی، اس میں ایک چشمہ بنایا، وہ اس میں کام کر رہے تھے کہ اونٹ کی گردن کی مثل کوئی چیز نکلی۔ اسے حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا اور خوشخبری دی گئی۔ حضرت علی (رض) نے کہا : وارث کو خوشخبری دو ، پھر اس کو فقراء، مساکین، اللہ کے راستے میں، مسافر اگرچہ قریبی ہو یا دور کا، حالت امن میں ہو یا جنگ میں سب کے لیے صدقہ کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ میرے چہرے سے آگ پھیر دے۔