(۱۱۹۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمِہْرَجَانِیُّ الْخَطِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ قَالَ وَتَصَدَّقَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ عَلَی وَلَدِہِ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرَبْعِہِ عِنْدَ الْمَرْوَۃِ وَبِالثَّنِیَّۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَرْضِہِ بِیَنْبُعَ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ فِی الْحَرَامِیَّۃِ وَدَارِہِ بِمِصْرَ وَأَمْوَالِہِ بِالْمَدِینَۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَتَصَدَّقَ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِالْمَدِینَۃِ وَبِدَارِہِ بِمِصْرَ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِرُومَۃَ فَہِیَ إِلَی الْیَوْمِ وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْوَہْطِ مِنَ الطَّائِفِ وَدَارِہِ بِمَکَّۃَ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ عَلَی وَلَدِہِ فَذَلِکَ إِلَی الْیَوْمِ قَالَ : وَمَا لاَ یَحْضُرُنِی ذِکْرُہُ کَثِیرٌ یُجْزِئُ مِنْہُ أَقُلَّ مِمَّا ذَکَرْتُ قَالَ : وَفِیمَا ذَکَرْتُ مِنْ صَدَقَاتِ مَنْ تَصَدَّقَ بِدَارِہِ بِمَکَّۃَ حُجَّۃٌ لأَہْلِ مَکَّۃَ فِی مِلْکِ بُیُوتِہَا وَکِرَائِ مَنَازِلِہَا لأَنَّہُ لاَ یَعْمِدُ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَالزُّبَیْرُ َعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ إِلَی شَیْئٍ النَّاسُ فِیہِ شَرَعٌ سَوَاء ٌ فَیَتَصَدَّقُونَ بِہِ عَلَی أَوْلاَدِہِمْ دُونَ مَالِکِیہِ مَعَہُمْ۔ [ضعیف]
(١١٩٠٠) ابوبکر عبداللہ بن زبیرحمیدی فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنا مکہ والا گھر اپنے بیٹے پر صدقہ کیا۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی مروہ اور ثنیہ والی جگہ اپنی اولاد پر صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور علی بن ابی طالب نے اپنی کنویں والی زمین صدقہ کی۔ وہ آج تک اسی طرح ہے اور زبیر بن عوام (رض) نے اپنا مکہ اور مصر والا گھر اور اپنے مدینہ والے اموال اپنی اولاد پر صدقہ کیے۔ وہ آج تک اسی طرح ہیں اور سعد بن ابی وقاص (رض) نے اپنا مدینہ اور مصر والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور عثمان بن عفان (رض) نے بئر رومہ صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور عمرو بن عاص (رض) نے طائف اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے اور حکیم بن حزام نے اپنا مدینہ اور مکہ والا گھر اپنی اولاد پر صدقہ کیا، وہ آج تک اسی طرح ہے، فرمایا : اور جو مجھے یاد نہیں وہ اس سے زیادہ ہے جو میں نے ذکر کردیا۔ اور جو میں نے ذکر کیا کہ جس نے اپنا گھر صدقہ کردیا مکہ میں اس میں اہل مکہ کے لیے دلیل ہے ان کے گھروں کی ملکیت اور ان کو کرایہ پر دینے کی اس لیے کہ ابوبکر، عمر، زبیر، عثمان عمرو بن عاص، حکیم بن حزام نے کسی چیز کا قصد نہیں کیا انھوں نے صرف اپنی اولاد پر صدقہ کیا نہ مالک بنایا۔