(۱۱۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ خَالِدٍ الْقَارِظِیِّ قَالَ : أَتَیْتُ أَبَا سَلَمَۃَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمِنًی فَقَدَّمَ إِلَیَّ زُبْدًا وَکُتْلَہُ ، فَوَقَعَ ذُبَابٌ فِی الزُّبْدِ فَجَعَلَ یَمْقُلُہُ بِخِنْصِرِہِ فَقُلْتُ : یَا خَالُ مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ : أَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِی الطَّعَامِ فَامْقُلُوْہُ ، فَإِنَّ فِی أَحَدِ جَنَاحَیْہِ سُمًّا وَفِی الآخَرِ شِفَائً ، وَإِنَّہُ یُؤَخِّرُ الشِّفَائَ وَیُقَدِّمُ السُّمَّ))۔ [صحیح] Q
(١١٩٢) سعید بن خالد قارظی فرماتے ہیں کہ میں منٰی میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے پاس آیا، انھوں نے مجھے مکھن اور پنیر پیش کیا، مکھی مکھن میں گرگئی تو وہ چھوٹی انگلی سے اس کو ڈبو رہے تھے۔ میں نے کہا : خالو جان ! آپ کیا کر رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا : مجھے سیدنا ابوسعید خدری (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کسی کے کھانے میں مکھی گرجائے تو اس کو ڈبو لے، اس لیے اس کے دو پروں میں سے ایک میں زہر ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ شفاء والے پر کو اوپر رکھتی ہے اور زہر والے پر پہلے ڈالتی ہے۔