(۱۱۹۰۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ : أَتَیْتُ شُرَیْحًا فِی زَمَنِ بِشْرِ بْنِ مَرْوَانَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ قَاضٍ فَقُلْتُ : یَا أَبَا أُمَیَّۃَ أَفْتِنِی فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی إِنَّمَا أَنَا قَاضٍ وَلَسْتُ بِمُفْتی قَالَ فَقُلْتُ : إِنِّی وَاللَّہِ مَا جِئْتُ أُرِیدُ خُصُومَۃً إِنَّ رَجُلاً مِنَ الْحَیِّ جَعَلَ دَارَہُ حُبْسًا قَالَ عَطَاء ٌ فَدَخَلَ مِنَ الْبَابِ الَّذِی فِی الْمَسْجِدِ فِی الْمَقْصُورَۃِ فَسَمِعْتُہُ حِینَ دَخَلَ وَتَبِعْتُہُ وَہُوَ یَقُولُ لِحَبِیبٍ الَّذِی یُقَدِّمُ الْخُصُومَ إِلَیْہِ : أَخْبِرِ الرَّجُلَ أَنَّہُ لاَ حُبْسَ عَنْ فَرَائِضِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ [صحیح]
(١١٩٠٩) عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں بشر بن مروان کے زمانہ میں شریح کے پاس آیا اور وہ ان دنوں قاضی تھے، میں نے کہا : اے ابوامیہ ! مجھے فتویٰ دو ۔ انھوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں قاضی ہوں، مفتی نہیں۔ میں نے کہا : میں لڑائی کے ارادے سے نہیں آیا، قبیلے کے ایک آدمی نے گھر روک لیا ہے، عطاء نے کہا : وہ مسجد والے دروازے سے داخل ہوئے ۔ میں نے سنا جب وہ داخل ہوئے اور ان کے پیچھے ہولیا۔ وہ حبیب سے کہہ رہے تھے جو جھگڑا لے کر آیا تھا کہ آدمی کو بتادو : اللہ کے فرائض سے روکنا جائز نہیں ہے۔