(۱۱۹۲۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ النَّحْوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : دَخَلَ یَحْیَی بْنُ یَعْمَرَ عَلَی الْحَجَّاجِ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ خَالِدٍ الْہَاشِمِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَی بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ النُّحَاسُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَی الطَّلْحِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ قَالَ : اجْتَمَعُوا عِنْدَ الْحَجَّاجِ فَذُکِرَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ فَقَالَ الْحَجَّاجُ : لَمْ یَکُنْ مِنْ ذُرِّیَّۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَعِنْدَہُ یَحْیَی بْنُ یَعْمَرَ فَقَالَ لَہُ : کَذَبْتَ أَیُّہَا الأَمِیرُ فَقَالَ : لَتَأْتِیَنِّی عَلَی مَا قُلْتَ بِبَیِّنَۃٍ مِنْ مِصْدَاقٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ أَوْ لأَقْتُلَنَّکَ قَالَ {وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ وَأَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ} إِلَی قَوْلِہِ {وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی} فَأَخْبَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ عِیسَی مِنْ ذُرِّیَّۃِ آدَمَ بِأُمِّہِ وَالْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ مِنْ ذُرِّیَّۃِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- بِأُمِّہِ قَالَ : صَدَقْتَ فَمَا حَمَلَکَ عَلَی تَکْذِیبِی فِی مَجْلِسِی قَالَ : مَا أَخَذَ اللَّہُ عَلَی الأَنْبِیَائِ {لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ} قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {فَنَبَذُوہُ وَرَائَ ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلاً} قَالَ فَنَفَاہُ إِلَی خُرَاسَانَ۔
[الحاکم ۴۷۵۶]
(١١٩٢٨) عاصم بن بہد فرماتے ہیں کہ وہ سب حجاج کے پاس جمع ہوئے ۔ حسین بن علی (رض) کا ذکر کیا گیا، حجاج نے کہا : وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذریت نہیں ہیں، یحییٰ بن یعمر بھی پاس تھے۔ انھوں نے حجاج سے کہا : اے امیر ! آپ نے جھوٹ بولا ہے، حجاج نے کہا : جو تو نے کہا ہے اس کی سچائی کے لیے کتاب اللہ سے دلیل لا ورنہ تجھے قتل کر دوں گا۔ یحییٰ نے کہا : { وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُدَ وَسُلَیْمَانَ وَأَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ } إِلَی قَوْلِہِ { وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی } (الانعام : ٨٤) ” اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عیسیٰ آدم کی ذریت ہیں، اپنی ماں کے ساتھ اور حسین بن علی محمد کی ذریت ہیں اپنی ماں (فاطمہ) کے ساتھ، حجاج نے کہا : تو نے سچ کہا، لیکن میری مجلس میں میری تکذیب پر تجھے کسی چیز نے ابھارا ہے ؟ یحییٰ نے کہا : اللہ نے انبیاء پر جو وعدہ لیا ہے اس نے ابھارا۔ { لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ } تم لوگوں کے لیے اس کو واضح کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ گے۔ پس انھوں نے پشت کے پیچھے ڈال دیا اور اسے تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالا۔ حجاج نے یحییٰ کو خراسان کی طرف برطرف کردیا۔