(۱۱۹۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ : أَنَّ الزُّبَیْرَ جَعَلَ دُورَہُ صَدَقَۃً قَالَ وَلِلْمَرْدُودَۃِ مِنْ بَنَاتِہِ أَنْ تَسْکُنَ غَیْرَ مُضِرَّۃٍ وَلاَ مُضَرٍّ بِہَا فَإِنِ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ فَلاَ شَیْئَ لَہَا۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَالَ الأَصْمَعِیُّ : الْمَرْدُودَۃُ الْمُطَلَّقَۃُ۔ [ضعیف]
(١١٩٣٠) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں : حضرت زبیر (رض) نے اپنے گھروں کو صدقہ کیا اور کہا : لوٹائی جانے والی بیٹی کے لیے یہ ہے کہ وہ بغیر نقصان دیے رہے گی اور نہ اسے نقصان دیا جائے گا۔ اگر وہ خاوند کی وجہ سے مستفنی ہوجائے تو اس کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔
ابو عبید فرماتے ہیں : اصمعی نے کہا : المردودۃ کا مطلب ہے الْمُطَلَّقَۃُ (طلاق یافتہ) ۔