(۱۱۹۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ حَزْنِ الْقُشَیْرِیِّ قَالَ : شَہِدْتُ الدَّارَ وَأَشْرَفَ عَلَیْہِمْ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِمَ الْمَدِینَۃَوَ لَیْسَ فِیہَا مَائٌ یُسْتَعْذَبُ غَیْرَ بِئْرِ رُومَۃَ فَقَالَ : مَنْ یَشْتَرِی بِئْرَ رُومَۃَ فَیَکُونُ دَلْوُہُ فِیہَا مَعَ دِلاَئِ الْمُسْلِمِینَ بِخَیْرٍ لَہُ مِنْہَا فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ صُلْبِ مَالِی َأَنْتُمُ الْیَوْمَ تَمْنَعُونَنِی أَنْ أَشْرَبَ مِنْہَا حَتَّی أَشْرَبَ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ قَالُوا اللَّہُمَّ : نَعَمْ قَالَ : أَنْشُدُکُمُ اللَّہَ وَالإِسْلاَمَ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ کَانَ ضَاقَ بِأَہْلِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ یَشْتَرِی بُقْعَۃَ آلِ فُلاَنٍ بِخَیْرٍ لَہُ مِنْہَا فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَاشْتَرَیْتُہَا مِنْ مَالِی أَوْ قَالَ مِنْ صُلْبِ مَالِی فَزِدْتُہَا فِی الْمَسْجِدِ فَأَنْتُمُ الْیَوْمَ تَمْنَعُونَنِی أَنْ أُصَلِّیَ فِیہَا قَالُوا : اللَّہُمَّ نَعَمْ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی تَجْہِیزِ جَیْشِ الْعُسْرَۃِ وَقِصَّۃِ ثَبِیرٍ۔ [حسن لغیرہ۔ الترمذی ۳۷۰۳]
(١١٩٣٦) ثمامہ بن حزن قشیری فرماتے ہیں : میں گھر میں گیا اور حضرت عثمان (رض) لوگوں کی طرف متوجہ تھے، کہا : میں تم کو اسلام اور اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آئے تو بئر رومہ کے علاوہ کہیں بھی میٹھا پانی نہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو بئر رومہ خریدے گا اور اس کا ڈول بظاہر مسلمانوں کے ڈول کے ساتھ ہوگا، لیکن جنت میں اس کے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے اس کو اپنے ذاتی مال سے خریدا۔ آج تم مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو ! یہاں تک کہ میں سمندر کا پانی پیتا ہوں، انھوں نے ہاں میں جواب دیا، پھر کہا : میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد تنگ تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جو آلِ فلاں کا گھر خریدے گا، اس کے لیے جنت میں اس سے بہتر ہوگا۔ پس میں نے اپنے مال سے اس کو خریدا اور میں نے مسجد میں اضافہ کیا۔ لیکن آج تم مجھے اسی مسجد میں نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔ انھوں نے ہاں میں جواب دیا۔