(۱۱۹۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: أَعْمَرَتِ امْرَأَۃٌ بِالْمَدِینَۃِ حَائِطًا لَہَا ابْنًا لَہَا ثُمَّ تُوُفِّیَ وَتُوُفِّیَتْ بَعْدَہُ وَتَرَکَ وَلَدًا وَلَہُ إِخْوَۃٌ بَنُونَ لِلْمُعْمِرَۃِ فَقَالَ وَلَدُ الْمُعْمِرَۃِ رَجَعَ الْحَائِطُ إِلَیْنَا وَقَالَ بَنُو الْمُعْمَرِ: بَلْ کَانَ لأَبِینَا حَیَاتَہُ وَمَوْتَہُ فَاخْتَصَمُوا إِلَی طَارِقٍ مَوْلَی عُثْمَانَ فَدَعَا جَابِرًا فَشَہِدَ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- بِالْعُمْرَی لِصَاحِبِہَا۔ فَقَضَی بِذَلِکَ طَارِقٌ ثُمَّ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ فَأَخْبَرَہُ بِذَلِکَ وَأَخْبَرَ بِشَہَادَۃِ جَابِرٍ قَالَ عَبْدُالْمَلِکِ: صَدَقَ جَابِرٌ وَأَمْضَی ذَلِکَ طَارِقٌ فَإِنَّ ذَلِکَ الْحَائِطَ لِبَنِی الْمُعْمَرِ حَتَّی الْیَوْمِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔ [مسلم ۱۶۲۵]
(١١٩٧٥) ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ میں ایک عورت نے اپنا باغ اپنے بیٹے کو عطیہ دیا، پھر وہ بیٹا اور وہ عورت بھی فوت ہوگئی اور اس بیٹے کا ایک بیٹا اور اس کے بھائی عمریٰ دینے والی عورت کے دوسرے بیٹے بھی تھے۔ عورت کے بیٹے نے کہا : وہ باغ ہماری طرف لوٹ آیا ہے اور آدمی کے بیٹے نے کہا : وہ باغ ہمارے باپ کا ہے۔ زندگی میں بھی موت کے بعد بھی وہ اپنا معاملہ عثمان کے غلام طارق کی طرف لے گئے، اس نے جابر (رض) کو بلایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں گواہی مانگی۔ پھر طارق نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا۔ پھر عبدالملک کو لکھا اور اس کی خبر دی اور حضرت جابر (رض) کی گواہی بھی بتائی۔ عبدالملک نے کہا : جابر نے سچ کہا اور طارق نے صحیح کیا، وہ باغ آج تک اس آدمی کے اولاد کے پاس ہے۔