(۱۲۰۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ عَنْ حُسَیْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَن یُعْطِیَ عَطِیَّۃً فَیَرْجِعَ فِیہَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِیمَا یُعْطِیہُ وَلَدَہُ وَمَثَلُ الَّذِی یُعْطِی الْعَطِیَّۃَ ثُمَّ یَرْجِعُ فِیہَا کَالْکَلْبِ یَأْکُلُ حَتَّی إِذَا شَبِعَ تَقَیَّأَ ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِی قَیْئِہِ ۔
[صحیح۔ احمد ۲۱۲۰۔ ابوداود ۳۵۳۹]
(١٢٠١٠) حضرت ابن عباس (رض) اور ابن عمر (رض) دونوں نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ عطیہ دے۔ پھر اسے واپس لے لے، سوائے والد کے جو اپنی اولاد کو عطیہ دیتا ہے اور اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے کتے کی طرح ہے کہ جب وہ کھا کر سیر ہوجاتا ہے تو قے کردیتا ہے اور پھر اس قے کو چاٹ جاتا ہے۔