(۱۲۰۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ وَعِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ : کَانُوا یَقُولُونَ فِی کُلِّ عَطِیَّۃٍ أَعْطَاہَا ذُو طَوْلٍ أَنْ لاَ عِوَضَ فِیہَا وَلاَ ثَوَابَ وَقَالُوا الثَّوَابُ لِمَنْ کَانَتْ عَطِیَّتُہُ عَلَی وَجْہِ الثَّوَابِ أَنَّہُ أَحَقُّ بِعَطِیَّتِہِ مَا لَمْ یُثَبْ مِنْہَا وَقَضَی بِذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ وَ قَالَ عِیسَی بْنُ مِینَائَ فِی رِوَایَتِہِ أَحَقُّ بِعَطِیَّتِہِ مَا لَمْ یُثَبْ مِنْہَا وَمَا لَمْ تُفَتْ۔ [صحیح]
(١٢٠٢٩) ابن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ فقہاء مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ جو عطیہ کے وقت کہتے تھے، نہ اس میں کوئی عوض ہے اور نہ کوئی بدلہ ہے اور انھوں نے کہا : بدلہ اس کے لیے ہے جو اپنا عطیہ بدلے کی خاطر دے۔ وہی اپنے عطیے کا حق دار ہے جب تک وہ بدلہ نہ دیا جائے ۔ اسی طرح عمر بن عبدالعزیز نے فیصلہ کیا۔