(۱۲۰۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنِی سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبِیعَۃَ : أَنَّ سُفْیَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَجَدَ عَیْبَۃً فَأَتَی بِہَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : عَرِّفْہَا سَنَۃً فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاکَ وَإِلاَّ فَہِیَ لَکَ فَلَمْ تُعْرَفْ فَلَقِیَہُ بِہَا الْقَابِلَ فِی الْمَوْسِمِ فَذَکَرَہَا لَہُ فَقَالَ عُمَرُ : ہِیَ لَکَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَنَا بِذَلِکَ قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہَا فَقَبَضَہَا عُمَرُ فَجَعَلَہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتْہَا عَنِ اللُّقَطَۃِ فَقَالَتِ اسْتَمْتِعِی بِہَا۔
[حسن۔ الدارمی ۲۵۹۹۔ النسائی فی الکبریٰ ۵۷۸۷]
(١٢٠٥٩) حضرت سفیان بن عبداللہ کو ایک ٹوکری ملی، وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس لے کر آئے۔ عمر (رض) نے کہا : وہ تیری ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ اس نے کہا : مجھے یہ روایت بھی کی گئی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) سے گری پڑی چیز کے بارے میں ایک عورت نے سوال کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تو اس سے فائدہ اٹھا۔