(۱۲۰۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ الشَّافِعِیَّ حِکَایَۃً عَنْ رَجُلٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی قَیْسٍ قَالَ سَمِعْتُ ہُزَیْلاً یَقُولُ : رَأَیْتُ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ أَتَاہُ رَجُلٌ بِصُرَّۃٍ مَخْتُومَۃٍ فَقَالَ : قَدْ عَرَّفْتُہَا وَلَمْ أَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہَا قَالَ : اسْتَمْتِعْ بِہَا۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَہَکَذَا السُّنَّۃُ الثَّابِتَۃُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَرَوَوْا حَدِیثًا عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ اشْتَرَی جَارِیَۃً فَذَہَبَ صَاحِبُہَا فَتَصَدَّقَ بِثَمَنِہَا وَقَالَ : اللَّہُمَّ عَنْ صَاحِبِہَا فَإِنْ کَرِہَ فَلِی وَعَلَیَّ الْغُرْمُ ثُمَّ قَالَ : وَہَکَذَا یُفْعَلُ بِاللُّقَطَۃِ فَخَالَفُوا السُّنَّۃَ فِی اللُّقَطَۃِ الَّتِی لاَ حُجَّۃَ مَعَہَا وَخَالَفُوا حَدِیثَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ الَّذِی یُوَافِقُ السُّنَّۃَ وَہُوَ عِنْدَہُمْ ثَابِتٌ وَاحْتَجُّوا بِہَذَا الْحَدِیثِ وَہُمْ یُخَالِفُونَہُ فِیمَا ہُوَ فِیہِ بِعَیْنِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ مَا یُوَافِقُ قَوْلَ الْعِرَاقِیِّینَ۔
(١٢٠٦١) ہذیل کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو دیکھا، ان کے پاس ایک آدمی ایک بندتھیلی لے کر آیا اور کہا : میں نے اس کا اعلان کیا ہے لیکن کسی نے اسے نہیں پہچانا ابن مسعود نے کہا : اس سے فائدہ اٹھا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہی سنت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے اور انھوں نے عامر سے انھوں نے اپنے والد عبداللہ سے حدیث بیان کی ہے کہ ابن مسعودنے لونڈی خریدی، اس کا مالک گیا اور اس کی قیمت صدقہ کردی اور کہا : اے اللہ ! یہ اس کے مالک کی طرف سے ہے۔ اگر اس نے لونڈی کو ناپسند کیا تو میری ہے اور مجھ پر اس کی قیمت ہے۔ پھر کہا : اسی طرح گری پڑی چیز کا حکم ہے۔ انھوں نے گری ہوئی چیز کے بارے میں سنت کی مخالفت کی ان کے پاس دلیل نہ تھی اور انھوں نے ابن مسعود (رض) کی حدیث کی مخالفت کی جو سنت کے موافق ہے اور وہ ان کے ہاں ثابت ہے اور انھوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے اور دوسرے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور حضرت علی (رض) سے عراقیوں کے قول کے موافق روایت کیا گیا ہے۔